نئی دہلی،16/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال شراب پالیسی کے مبینہ گھوٹالہ معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے اتوار کو سی بی آئی ہیڈکوارٹر پہنچے ۔بتایا گیا ہے کہ اس معاملے میں سی بی آئی کی وزیراعلیٰ سے تین گھنٹے سے زیادہ پوچھ گچھ جاری ہے۔اس سے قبل سی بی آئی سے پوچھ گچھ اور حراست میں لیے جانے کے سوال پر دہلی کے سی ایم اروند کیجریوال نے کہا کہ جو بھی سوال پوچھے جائیں گے ہم جواب دیں گے۔ بی جے پی والے کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی والے سی بی آئی کو کنٹرول کرتے ہیں۔
دوسری طرف عام آدمی پارٹی کے کارکنان اس کارروائی کے خلاف کشمیری گیٹ پر احتجاج پر اُترآئے جس کے بعد پولیس نے AAP کارکنوں کو حراست میں لے لیا ۔ اس کے ساتھ ہی، سی بی آئی ہیڈکوارٹر کے علاوہ، پولیس نے تقریباً پوری دہلی میں سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے ہیں۔
اس سے قبل اروند کیجریوال نے ٹوئٹ کیا ’’ہم باپو کے بتائے راستہ پر ہیں، ناانصافی اور ظلم کے خلاف ہم سچائی کے راستہ پر ہیں۔ آخر میں جیت سچائی کی ہوگی۔‘‘ خیال رہے کہ شراب پالیسی کے مبینہ گھوٹالہ کے سلسلہ میں اروند کیجریوال سے پہلی مرتبہ پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر سی بی آئی کے دفتر اور کیجریوال کی رہائش گاہ پر حفاظت کے پختہ انتظامات کیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کیجریوال نے آج ایک بیان میں کہا ’’آج مجھے سی بی آئی نے طلب کیا ہے۔ تھوڑی دیر میں گھر سے نکلوں گا۔ جب کچھ غلط نہیں کیا تو چھپانا کیا؟ یہ لوگ طاقت ور ہیں۔ کسی کو بھی گرفتار کرا سکتے ہیں۔‘‘ حزب اختلاف کے تمام لیڈران بھی کیجریوال کی حمایت میں آ گئے ہیں۔ وہیں بی جے پی کیجریوال پر حملہ آور ہے۔
کیجریوال جس وقت پوچھ گچھ کے لئے سی بی آئی کے دفتر میں پہنچے، اسی وقت عآپ کی اعلیٰ قیادت دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئی اور وزیر اعظم مودی کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس دوران سنجے سنگھ، عآپ کے تنظیمی سکریٹری سندیپ پاٹھک، دہلی کے کابینی وزرا سمیت متعدد لیڈران نے ’مودی اڈانی بھائی بھائی، دیش بیچ کے کری کمائی‘ کے نعرے لگائے۔
دریں اثنا، عام آدمی پارٹی کے تین ارکان اسمبلی سمیت کئی کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔ عآپ نے ٹوئٹ کر کے اطلاع دی ہے کہ رکن اسمبلی ونے مشرا، وشیش روی اور اکھلیش ترپاٹھی کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔
عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’کیجریوال کو ملک کو تعلیم اور صحت کا ماڈل دینے کی سزا مل رہی ہے۔ اس ظلم کے خلاف عآپ کی لڑائی جاری رہے گی۔ کیجریوال جی نہیں جھکیں گے، تاناشاہی کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ اس ملک میں دو شاہ ہیں ایک تانا شاہ اور دوسرا امت شاہ!‘‘